26 ŞUARA

  • 26:1

    ط س م

  • 26:2

    یہ کتاب مبین کی آیات ہیں

  • 26:3

    اے محمدؐ، شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے

  • 26:4

    ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کر سکتے ہیں کہ اِن کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں

  • 26:5

    اِن لوگوں کے پاس رحمان کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں

  • 26:6

    اب کہ یہ جھٹلا چکے ہیں، عنقریب اِن کو اس چیز کی حقیقت (مختلف طریقوں سے) معلوم ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں

  • 26:7

    اور کیا انہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کتنی کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں؟

  • 26:8

    یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں

  • 26:9

    اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

  • 26:10

    اِنہیں اس وقت کا قصہ سناؤ جب کہ تمہارے رب نے موسیٰؑ کو پکارا "ظالم قوم کے پاس جا

  • 26:11

    فرعون کی قوم کے پاس، کیا وہ ڈرتے نہیں؟"

  • 26:12

    اُس نے عرض کیا "اے رب، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے

  • 26:13

    میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی آپ ہارونؑ کی طرف رسالت بھیجیں

  • 26:14

    اور مجھ پر اُن کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے، اس لیے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے"

  • 26:15

    فرمایا "ہرگز نہیں، تم دونوں جاؤ ہماری نشانیاں لے کر، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے

  • 26:16

    فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو، ہم کو رب العٰلمین نے اس لیے بھیجا ہے

  • 26:17

    کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے"

  • 26:18

    فرعون نے کہا "کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟ تو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے

  • 26:19

    اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کہ کر گیا، تو بڑا احسان فراموش آدمی ہے"

  • 26:20

    موسیٰؑ نے جواب دیا "اُس وقت وہ کام میں نے نادانستگی میں کر دیا تھا

  • 26:21

    پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا اس کے بعد میرے رب نے مجھ کو حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں شامل کر لیا

  • 26:22

    رہا تیرا احسان جو تو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا"

  • 26:23

    فرعون نے کہا "اور یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے؟"

  • 26:24

    موسیٰؑ نے جواب دیا "آسمان اور زمین کا رب، اور اُن سب چیزوں کا رب جو آسمان اور زمین کے درمیان ہیں، اگر تم یقین لانے والے ہو"

  • 26:25

    فرعون نے اپنے گرد و پیش کے لوگوں سے کہا "سُنتے ہو؟"

  • 26:26

    موسیٰؑ نے کہا "تمہارا رب بھی اور تمہارے ان آباء و اجداد کا رب بھی جو گزر چکے ہیں"

  • 26:27

    فرعون نے (حاضرین سے) کہا "تمہارے یہ رسول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں، بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں"

  • 26:28

    موسیٰؑ نے کہا "مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب، اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں"

  • 26:29

    فرعون نے کہا "اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو تجھے میں اُن لوگوں میں شامل کر دوں گا جو قید خانوں میں پڑے سڑ رہے ہیں"

  • 26:30

    موسیٰؑ نے کہا "اگرچہ میں لے آؤں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی؟"

  • 26:31

    فرعون نے کہا "اچھا تو لے آ اگر تو سچا ہے"

  • 26:32

    (اس کی زبان سے یہ بات نکلتے ہی) موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک صریح اژدھا تھا

  • 26:33

    پھر اُس نے اپنا ہاتھ (بغل سے) کھینچا اور وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا

  • 26:34

    فرعون اپنے گرد و پیش کے سرداروں سے بولا "یہ شخص یقیناً ایک ماہر جادوگر ہے

  • 26:35

    چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو ملک سے نکال دے اب بتاؤ تم کیا حکم دیتے ہو؟"

  • 26:36

    انہوں نے کہا "اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجیے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے

  • 26:37

    کہ ہر سیانے جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں"

  • 26:38

    چنانچہ ایک روز مقرر وقت پر جادوگر اکٹھے کر لیے گئے

  • 26:39

    اور لوگوں سے کہا گیا "تم اجتماع میں چلو گے؟

  • 26:40

    شاید کہ ہم جادوگروں کے دین ہی پر رہ جائیں اگر وہ غالب رہے"

  • 26:41

    جب جادوگر میدان میں آ گئے تو انہوں نے فرعون سے کہا "ہمیں انعام تو ملے گا اگر ہم غالب رہے؟"

  • 26:42

    اس نے کہا "ہاں، اور تم تو اس وقت مقربین میں شامل ہو جاؤ گے"

  • 26:43

    موسیٰؑ نے کہا "پھینکو جو تمہیں پھینکنا ہے"

  • 26:44

    انہوں نے فوراً اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے "فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے"

  • 26:45

    پھر موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا

  • 26:46

    اس پر سارے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر پڑے

  • 26:47

    اور بول اٹھے کہ "مان گئے ہم رب العالمین کو

  • 26:48

    موسیٰؑ اور ہارونؑ کے رب کو"

  • 26:49

    فرعون نے کہا "تم موسیٰؑ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے اچھا، ابھی تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے، میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں میں کٹواؤں گا اور تم سب کو سولی چڑھا دوں گا"

  • 26:50

    انہوں نے جواب دیا "کچھ پرواہ نہیں، ہم اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں گے

  • 26:51

    اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کر دے گا کیونکہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے ہیں"

  • 26:52

    ہم نے موسیٰؑ کو وحی بھیجی کہ "راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ، تمہارا پیچھا کیا جائے گا"

  • 26:53

    اس پر فرعون نے (فوجیں جمع کرنے کے لیے) شہروں میں نقیب بھیج دیے

  • 26:54

    (اور کہلا بھیجا) کہ "یہ کچھ مٹھی بھر لوگ ہیں

  • 26:55

    اور انہوں نے ہم کو بہت ناراض کیا ہے

  • 26:56

    اور ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہر وقت چوکنا رہنا ہے"

  • 26:57

    اِس طرح ہم انہیں ان کے باغوں اور چشموں

  • 26:58

    اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے نکال لائے

  • 26:59

    یہ تو ہوا اُن کے ساتھ، اور (دوسری طرف) بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث کر دیا

  • 26:60

    صبح ہوتے ہی یہ لوگ اُن کے تعاقب میں چل پڑے

  • 26:61

    جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰؑ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ "ہم تو پکڑے گئے"

  • 26:62

    موسیٰؑ نے کہا "ہرگز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا"

  • 26:63

    ہم نے موسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ "مار اپنا عصا سمندر پر" یکایک سمندر پھَٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہو گیا

  • 26:64

    اُسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے

  • 26:65

    موسیٰؑ اور اُن سب لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، ہم نے بچا لیا

  • 26:66

    اور دوسروں کو غرق کر دیا

  • 26:67

    اس واقعہ میں ایک نشانی ہے، مگر اِن لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں

  • 26:68

    اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

  • 26:69

    اور اِنہیں ابراہیمؑ کا قصہ سناؤ

  • 26:70

    جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا تھا کہ "یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم پوجتے ہو؟"

  • 26:71

    انہوں نے جواب دیا "کچھ بت ہیں جن کی ہم پوجا کرتے ہیں اور انہی کی سیوا میں ہم لگے رہتے ہیں"

  • 26:72

    اس نے پوچھا "کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو؟

  • 26:73

    یا یہ تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟"

  • 26:74

    انہوں نے جواب دیا "نہیں، بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے"

  • 26:75

    اس پر ابراہیمؑ نے کہا "کبھی تم نے (آنکھیں کھول کر) اُن چیزوں کو دیکھا بھی جن کی بندگی تم

  • 26:76

    اور تمہارے پچھلے باپ دادا بجا لاتے رہے؟

  • 26:77

    میرے تو یہ سب دشمن ہیں، بجز ایک رب العالمین کے

  • 26:78

    جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے

  • 26:79

    جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے

  • 26:80

    اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے

  • 26:81

    جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا

  • 26:82

    اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا"

  • 26:83

    (اِس کے بعد ابراہیمؑ نے دعا کی) "اے میرے رب، مجھے حکم عطا کر اور مجھ کو صالحوں کے ساتھ ملا

  • 26:84

    اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر

  • 26:85

    اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما

  • 26:86

    اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ بے شک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے

  • 26:87

    اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے

  • 26:88

    جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد

  • 26:89

    بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو"

  • 26:90

    (اس روز) جنت پرہیزگاروں کے قریب لے آئی جائے گی

  • 26:91

    اور دوزخ بہکے ہوئے لوگوں کے سامنے کھول دی جائے گی

  • 26:92

    اور ان سے پوچھا جائے گا کہ "اب کہاں ہیں وہ جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے؟

  • 26:93

    کیا وہ تمہاری کچھ مدد کر رہے ہیں یا خود اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں؟"

  • 26:94

    پھر وہ معبود اور یہ بہکے ہوئے لوگ

  • 26:95

    اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اُوپر تلے دھکیل دیے جائیں گے

  • 26:96

    وہاں یہ سب آپس میں جھگڑیں گے اور یہ بہکے ہوئے لوگ (اپنے معبودوں سے) کہیں گے

  • 26:97

    کہ "خدا کی قسم، ہم تو صریح گمراہی میں مبتلا تھے

  • 26:98

    جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے

  • 26:99

    اور وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالا

  • 26:100

    اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے

  • 26:101

    اور نہ کوئی جگری دوست

  • 26:102

    کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومن ہوں"

  • 26:103

    یقیناً اس میں ایک بڑی نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں

  • 26:104

    اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

  • 26:105

    قوم نوحؑ نے رسولوں کو جھٹلایا

  • 26:106

    یاد کرو جبکہ ان کے بھائی نوحؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟

  • 26:107

    میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

  • 26:108

    لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

  • 26:109

    میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

  • 26:110

    پس تم اللہ سے ڈرو اور (بے کھٹکے) میری اطاعت کرو"

  • 26:111

    انہوں نے جواب دیا "“کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی رذیل ترین لوگوں نے اختیار کی ہے؟"

  • 26:112

    نوحؑ نے کہا "میں کیا جانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیں

  • 26:113

    ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے، کاش تم کچھ شعور سے کام لو

  • 26:114

    میرا یہ کام نہیں ہے کہ جو ایمان لائیں ان کو میں دھتکار دوں

  • 26:115

    میں تو بس ایک صاف صاف متنبہ کر دینے والا آدمی ہوں"

  • 26:116

    انہوں نے کہا "اے نوحؑ، اگر تو باز نہ آیا تو پھٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہو کر رہے گا"

  • 26:117

    نوحؑ نے دعا کی "“اے میرے رب، میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا

  • 26:118

    اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے"

  • 26:119

    آخرکار ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں بچا لیا

  • 26:120

    اور اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا

  • 26:121

    یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں

  • 26:122

    اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

  • 26:123

    عاد نے رسولوں کو جھٹلایا

  • 26:124

    یاد کرو جبکہ ان کے بھائی ہودؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟

  • 26:125

    میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

  • 26:126

    لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

  • 26:127

    میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

  • 26:128

    یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اونچے مقام پر لا حاصل ایک یادگار عمارت بنا ڈالتے ہو

  • 26:129

    اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے

  • 26:130

    اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو جبّار بن کر ڈالتے ہو

  • 26:131

    پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

  • 26:132

    ڈرو اُس سے جس نے وہ کچھ تمہیں دیا ہے جو تم جانتے ہو

  • 26:133

    تمہیں جانور دیے، اولادیں دیں

  • 26:134

    باغ دیے اور چشمے دیے

  • 26:135

    مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے"

  • 26:136

    انہوں نے جواب دیا "تو نصیحت کر یا نہ کر، ہمارے لیے یکساں ہے

  • 26:137

    یہ باتیں تو یوں ہی ہوتی چلی آئی ہیں

  • 26:138

    اور ہم عذاب میں مُبتلا ہونے والے نہیں ہیں"

  • 26:139

    آخرکار انہوں نے اُسے جھٹلا دیا اور ہم نے ان کو ہلاک کر دیا یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں

  • 26:140

    اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

  • 26:141

    ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا

  • 26:142

    یاد کرو جبکہ ان کے بھائی صالحؑ نے ان سے کہا "کیا تم ڈرتے نہیں؟

  • 26:143

    میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

  • 26:144

    لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

  • 26:145

    میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

  • 26:146

    کیا تم اُن سب چیزوں کے درمیان، جو یہاں ہیں، بس یوں ہی اطمینان سے رہنے دیے جاؤ گے؟

  • 26:147

    اِن باغوں اور چشموں میں؟

  • 26:148

    اِن کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رس بھرے ہیں؟

  • 26:149

    تم پہاڑ کھود کھود کر فخریہ اُن میں عمارتیں بناتے ہو

  • 26:150

    اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

  • 26:151

    اُن بے لگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو

  • 26:152

    جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور کوئی اصلاح نہیں کرتے"

  • 26:153

    انہوں نے جواب دیا "تو محض ایک سحر زدہ آدمی ہے

  • 26:154

    تو ہم جیسے ایک انسان کے سوا اور کیا ہے لا کوئی نشانی اگر تو سچّا ہے"

  • 26:155

    صالحؑ نے کہا "یہ اونٹنی ہے ایک دن اس کے پینے کا ہے اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کا

  • 26:156

    اس کو ہرگز نہ چھیڑنا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تم کو آ لے گا"

  • 26:157

    مگر انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں اور آخرکار پچھتاتے رہ گئے

  • 26:158

    عذاب نے انہیں آ لیا یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں

  • 26:159

    اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

  • 26:160

    لوطؑ کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا

  • 26:161

    یاد کرو جبکہ ان کے بھائی لوطؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟

  • 26:162

    میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

  • 26:163

    لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

  • 26:164

    میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

  • 26:165

    کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مَردوں کے پاس جاتے ہو

  • 26:166

    اور تمہاری بیویوں میں تمہارے رب نے تمہارے لیے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟ بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزر گئے ہو"

  • 26:167

    انہوں نے کہا “اے لوطؑ، "اگر تو اِن باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں اُن میں تو بھی شامل ہو کر رہے گا"

  • 26:168

    اس نے کہا "تمہارے کرتوتوں پر جو لوگ کُڑھ رہے ہیں میں اُن میں شامل ہوں

  • 26:169

    اے پروردگار، مجھے اور میرے اہل و عیال کو ان کی بد کرداریوں سے نجات دے"

  • 26:170

    آخرکار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو بچا لیا

  • 26:171

    بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی

  • 26:172

    پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کر دیا

  • 26:173

    اور ان پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری بارش تھی جو اُن ڈرائے جانے والوں پر نازل ہوئی

  • 26:174

    یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر اِن میں سے اکثر ماننے والے نہیں

  • 26:175

    اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

  • 26:176

    اصحاب الاَیکہ نے رسولوں کو جھٹلایا

  • 26:177

    یاد کرو جبکہ شعیبؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟

  • 26:178

    میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

  • 26:179

    لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

  • 26:180

    میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

  • 26:181

    پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو

  • 26:182

    صحیح ترازو سے تولو

  • 26:183

    اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو

  • 26:184

    اور اُس ذات کا خوف کرو جس نے تمہیں اور گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے"

  • 26:185

    انہوں نے کہا "تو محض ایک سحرزدہ آدمی ہے

  • 26:186

    اور تو کچھ نہیں مگر ایک انسان ہم ہی جیسا، اور ہم تو تجھے بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں

  • 26:187

    اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے"

  • 26:188

    شعیبؑ نے کہا "میرا رب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو"

  • 26:189

    انہوں نے اسے جھٹلا دیا، آخرکار چھتری والے دن کا عذاب ان پر آ گیا، اور وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھا

  • 26:190

    یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں

  • 26:191

    اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

  • 26:192

    یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے

  • 26:193

    اسے لے کر تیرے دل پر امانت دار روح اتری ہے

  • 26:194

    تاکہ تو اُن لوگوں میں شامل ہو جو (خدا کی طرف سے خلق خدا کو) متنبّہ کرنے والے ہیں

  • 26:195

    صاف صاف عربی زبان میں

  • 26:196

    اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے

  • 26:197

    کیا اِن (اہلِ مکہ) کے لیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اِسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں؟

  • 26:198

    (لیکن اِن کی ہٹ دھرمی کا حال یہ ہے کہ) اگر اہم اسے کسی عجمی پر بھی نازل کر دیتے

  • 26:199

    اور یہ (فصیح عربی کلام) وہ ان کو پڑھ کر سناتا تب بھی یہ مان کر نہ دیتے

  • 26:200

    اِسی طرح ہم نے اس (ذکر) کو مجرموں کے دلوں میں گزارا ہے

  • 26:201

    وہ اس پر ایمان نہیں لاتے جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں

  • 26:202

    پھر جب وہ بے خبری میں ان پر آ پڑتا ہے

  • 26:203

    اُس وقت وہ کہتے ہیں "کہ “کیا اب ہمیں کچھ مُہلت مِل سکتی ہے؟"

  • 26:204

    تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں؟

  • 26:205

    تم نے کچھ غور کیا، اگر ہم انہیں برسوں تک عیش کرنے کی مُہلت بھی دے دیں

  • 26:206

    اور پھر وہی چیز ان پر آ جائے جس سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے

  • 26:207

    تو وہ سامانِ زیست جو ان کو ملا ہوا ہے اِن کے کس کام آئے گا؟

  • 26:208

    (دیکھو) ہم نے کبھی کسی بستی کو اِس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ اُس کے لیے خبردار کرنے والے حق نصیحت ادا کرنے کو موجود تھے

  • 26:209

    اور ہم ظالم نہ تھے

  • 26:210

    اِس (کتاب مبین) کو شیاطین لے کر نہیں اترے ہیں

  • 26:211

    نہ یہ کام ان کو سجتا ہے، اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں

  • 26:212

    وہ تو اس کی سماعت تک سے دُور رکھے گئے ہیں

  • 26:213

    پس اے محمدؐ، اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو، ورنہ تم بھی سزا پانے والوں میں شامل ہو جاؤ گے

  • 26:214

    اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈراؤ

  • 26:215

    اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضع سے پیش آؤ

  • 26:216

    لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذ مہ ہوں

  • 26:217

    اور اُس زبردست اور رحیم پر توکل کرو

  • 26:218

    جو تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اٹھتے ہو

  • 26:219

    اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے

  • 26:220

    وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

  • 26:221

    لوگو، کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اُترا کرتے ہیں؟

  • 26:222

    وہ ہر جعل ساز بدکار پر اُترا کرتے ہیں

  • 26:223

    سُنی سُنائی باتیں کانوں میں پھونکتے ہیں، اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں

  • 26:224

    رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں

  • 26:225

    کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں

  • 26:226

    اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں

  • 26:227

    بجز اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا، اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں

Paylaş
Tweet'le