75 KIYAMET

  • 75:1

    نہیں، میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی

  • 75:2

    اور نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی

  • 75:3

    کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اُس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟

  • 75:4

    ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنا دینے پر قادر ہیں

  • 75:5

    مگر انسان چاہتا یہ ہے کہ آگے بھی بد اعمالیاں کرتا رہے

  • 75:6

    پوچھتا ہے "آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن؟"

  • 75:7

    پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے

  • 75:8

    اور چاند بے نور ہو جائیگا

  • 75:9

    اور چاند سورج ملا کر ایک کر دیے جائیں گے

  • 75:10

    اُس وقت یہی انسان کہے گا "کہاں بھاگ کر جاؤں؟"

  • 75:11

    ہرگز نہیں، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی

  • 75:12

    اُس روز تیرے رب ہی کے سامنے جا کر ٹھیرنا ہوگا

  • 75:13

    اُس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتا دیا جائے گا

  • 75:14

    بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے

  • 75:15

    چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے

  • 75:16

    اے نبیؐ، اِس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو

  • 75:17

    اِس کو یاد کرا دینا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے

  • 75:18

    لہٰذا جب ہم اِسے پڑھ رہے ہوں اُس وقت تم اِس کی قرات کو غور سے سنتے رہو

  • 75:19

    پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے

  • 75:20

    ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو

  • 75:21

    اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو

  • 75:22

    اُس روز کچھ چہرے تر و تازہ ہونگے

  • 75:23

    اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہونگے

  • 75:24

    اور کچھ چہرے اداس ہوں گے

  • 75:25

    اور سمجھ رہے ہوں گے کہ اُن کے ساتھ کمر توڑ برتاؤ ہونے والا ہے

  • 75:26

    ہرگز نہیں، جب جان حلق تک پہنچ جائے گی

  • 75:27

    اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا

  • 75:28

    اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے

  • 75:29

    اور پنڈلی سے پنڈلی جڑ جائے گی

  • 75:30

    وہ دن ہوگا تیرے رب کی طرف روانگی کا

  • 75:31

    مگر اُس نے نہ سچ مانا، اور نہ نماز پڑھی

  • 75:32

    بلکہ جھٹلایا اور پلٹ گیا

  • 75:33

    پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا

  • 75:34

    یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے

  • 75:35

    ہاں یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے

  • 75:36

    کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟

  • 75:37

    کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے؟

  • 75:38

    پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے

  • 75:39

    پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں

  • 75:40

    کیا وہ اِس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر زندہ کر دے؟

Paylaş
Tweet'le